نئی دہلی؍بنگلورو،19؍مئی (ایس او نیوز) کرناٹک اسمبلی میں عبوری اسپیکر کے طور پر کے جی بوپیا کی تقرری کو چیلنج دینے والی کانگریس۔ جے ڈی ایس کی عرضی کو سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا ہے۔ اس طرح اسمبلی میں طاقت آزمائی سے ٹھیک پہلے کانگریس۔ جے ڈی ایس کو سپریم کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ سپریم کورٹ نے عبوری اسپیکر کے انتخاب پر کانگریس کے اعتراضات کو خارج کر دیا ہے۔ اب یہ طے ہو گیا ہے کہ گورنر کے ذریعہ منتخب پروٹیم اسپیکر کے جی بوپیا کی قیادت میں ہی فلور ٹیسٹ کرایا جائے گا۔
جسٹس ارجن کمار سیکریٹری، جسٹس ایس اے بوب ڈے اور جسٹس اشوک بھوشن کی بنچ نے عارضی اسپیکر کی تقرری کے خلاف کانگریس-جنتا دل (ایس ) کی درخواست کو آگے کی سماعت کے لئے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ درخواست گزاروں کی جانب سے پیش سینئر وکیل کپل سبل اور ابھیشیک منو سنگھوی نے بوپیا کی پرانی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے ان کی تقرری پر سوال کھڑے کئے۔ گورنر وجوبھائی والا کی جانب سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے دلیل دی کہ فلور ٹسٹ کے پورے عمل کی براہ راست نشریات کا اہتمام کیا گیا ہے لہذا کسی قسم کی گڑبڑی کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔
اس پر عدالت نے یہ کہتے ہوئے درخواست مسترد کر دی کہ مہتا نے اس مسئلہ کو حل کر دیا ہے۔ تمام علاقائی نیوز چینلز سے اس کو براہ راست نشر کیا جائے گا اور عدالت کا مقصد منصفانہ فلور ٹسٹ کرانا ہے۔
اس دوران کرناٹک اسمبلی میں امن بنائے رکھنے کے لئے دو سو سے زیادہ مارشل تعینات کئے گئے ہیں۔ یہاں کانگریس رکن اسمبلی آنند سنگھ کو لے کر شش وپنج برقرار ہے کہ وہ فلور ٹیسٹ کے لئے اسمبلی پہنچیں گے یا نہیں۔ وہیں، کانگریس لیڈران دعویٰ کر رہے ہیں کہ آنند سنگھ ان کے رابطہ میں ہیں اور فلور ٹیسٹ کے دوران وہ ان کا ساتھ دیں گے۔ سابق وزیر اعلیٰ سدارمیا اسمبلی پہنچ چکے ہیں۔ اس بیچ بی ایس یدی یوروپا نے فلور ٹیسٹ کے بعد شام پانچ بجے تقریب کا اعلان کیا ہے۔ یدی یوروپا نے کہا کہ اتوار کو وہ وزیر اعلیٰ کے طور پر اہم فیصلے کرنے والے ہیں۔
اس بیچ کانگریس اور جے ڈی ایس کے ارکان اسمبلی حیدرآباد سے بنگلورو لوٹ آئے ہیں۔ بی جے پی کی جوڑ توڑ کی کوششوں کے اندیشوں کے مدنظر دونوں پارٹیوں نے اپنے ارکان اسمبلی کو شہر سے باہر بھیج دیا تھا۔ سبھی ارکان اسمبلی کو ہوٹل ہلٹن اور لی میریڈین میں ٹھہرایا گیا ہے۔